نئی دہلی،11/مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ہندوستان کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کے خلاف لگے جنسی استحصال کے الزامات کا نپٹارہ جس طرح سے سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کے ذریعہ کیا گیا، اس کو لیکر مرکزی حکومت اور اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔دی وائر کو ملی جانکاری کے مطابق اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو ایک خط لکھاتھا، جس میں سابق جونیئر کورٹ اسسٹنٹ کے ذریعہ لگائے گئے جنسی استحصال کے الزامات کی تفتیش کے لئے تشکیل کی گئی اسپیشل انٹرنل کمیٹی میں باہری ممبروں کو شامل کرنے کی پرزور سفارش کی گئی تھی۔ اس معاملے سے جڑی انتہائی متنازعہ خصوصی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے مرکز کی طرف سے ہندوستان کے چیف جسٹس کا بچاؤ کیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو ایک خط لکھ کر یہ کہا کہ خاتون کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی تفتیش کرنے کے لئے بنائی گئی کسی بھی کمیٹی میں باہری ممبر، بہتر ہو کہ وہ کوئی ریٹائرڈ خاتون جج ہوں، کو شامل کیا جانا شفافیت اور غیر جانبداری کے کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔یہی بات جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے ذریعے الگ سے لکھے گئے ایک خط میں بھی دوہرائی گئی تھی۔ اٹارنی جنرل کے ذریعہ سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو تحریری طور پر اپنی رائے بھیجے جانے کے بعد مرکز نے وینو گوپال سے اپنے عدم اتفاق کا اظہار کیا تھا۔ان پر یہ دباؤ بھی ڈالا کہ وہ اس خط کو اپنی ذاتی رائے قراردیں اور واضح کریں کہ اس کو مرکزی حکومت کی رائے نہ مانی جائے۔ اس کے بعد اٹارنی جنرل نے ایک دوسرا خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کو حکومت کی رائے نہ مانا جائے۔ذرائع کی مانیں تو ایک ایسے اہم موضوع پر اٹارنی جنرل اور حکومت کے درمیان اتنے شدید اختلافات پیدا ہو جانے کے بعد وینو گوپال جلد ہی ایک قانون داں اور آئین کے ماہر کے بطور اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لئے مجبور ہو سکتے ہیں۔88 سال کے اٹارنی جنرل کا قانونی تجربہ سپریم کورٹ کے ہرایک جج سے 20 سال سے بھی زیادہ ہے۔ قانونی پیشے میں ان کو جو وقار حاصل ہے، اس کو دیکھتے ہوئے وینو گوپال نے اپنے مداحوں کو تب ضرور مایوس کیا تھا جب الیکشن بانڈ کی پرائیویسی کو لیکر حکومت کی طرف سے یہ کہا تھا کہ رائے دہندگان کے لئے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے کے ذرائع کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نے اس وقت بھی اپنے عہدے کے لحاظ سے کام نہیں کیا تھا، جب انہوں نے دی ہندو کے ذریعہ شائع رافیل معاہدے سے متعلق دستاویزوں کو’چوری ہوا‘بتایا، لیکن بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ یہ دستاویز فوٹوکاپی کرائے گئے تھے۔ایسا لگتا ہے کہ شاید اٹارنی جنرل نے اب مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں اپنے لئے لکشمن ریکھا کھینچنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ اسی معاملے میں مرکزی حکومت خود کو ہندوستان کے چیف جسٹس کے‘نجات دہندہ’کے طور پر پیش کرنے میں لگی ہے-بھلے ہی اس کے لئے غیر جانبدارانہ اور مناسب کارروائی سے ہی سمجھوتہ کیوں نہ کرنا پڑے۔اگر اگلے کچھ دنوں میں اٹارنی جنرل استعفیٰ دے دیتے ہیں، تو اس سے اس معاملے میں مرکزی حکومت کے رویہ پر بھی سوال اٹھیں گے، جس سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اعتماد پر گہرا اثر پڑے گا۔
اختلافات کی خبریں غلط۔جیٹلی: وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے خلاف جنسی تشدد کے معاملے کو لے کر اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال اور حکومت کے درمیان اختلافات کی خبروں کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔وینو گوپال نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو خط لکھ کر عدالت کے تین ریٹائرڈ ججوں کی ایک کمیٹی قائم کرنے کو کہا تھا جو عدالت کی برخاست خاتون اہلکار کی طرف سے ہندوستان کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کی جانچ کرے۔اس معاملے کی جانچ اگرچہ سپریم کورٹ کے تین موجودہ ججوں کی کمیٹی نے کی تھی۔جیٹلی نے اپنے ٹویٹس میں کہاکہ اٹارنی جنرل اور حکومت کے درمیان اختلافات سے متعلق خبریں مکمل طور پر غلط ہے۔بار کے سینئر ارکان میں سے ایک ہونے کی وجہ سے ان کے(وینو گوپال کے) کچھ مسائل پر اپنے خیالات ہوتے ہیں۔حکومت ان کے مشورہ کا ان کا احترام کرتی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس معاملے میں تین رکنی کمیٹی نے چیف جسٹس گگوئی کو کلین چٹ دے دی تھی۔